جب اُسے پہلی بار دیکھا تو دل کو کچھ ہو گیا
بارش کے بعد کی وہ خوشگوار شام آج بھی مجھے یاد ہے۔ میں یونیورسٹی کی لائبریری سے باہر نکلا ہی تھا کہ سامنے سے ایک لڑکی آتی دکھائی دی۔ اس کے ہاتھ میں چند کتابیں تھیں، چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ اور آنکھوں میں عجیب سی معصومیت۔
جیسے ہی اس نے میری طرف دیکھا، نہ جانے کیوں میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ ایسا لگا جیسے وقت چند لمحوں کے لیے رک گیا ہو۔ میں نے خود سے کہا، “یہ احساس آخر کیا ہے؟”
اگلے چند دنوں میں وہ مجھے اکثر لائبریری، کیفے ٹیریا اور کیمپس کے باغ میں نظر آنے لگی۔ ہماری صرف نظریں ملتیں، مگر دل جیسے بہت سی باتیں کر لیتے تھے۔
ایک دن ہمت کر کے میں نے کہا، “السلام علیکم، میرا نام احسن ہے۔”
وہ مسکرائی۔
“وعلیکم السلام، میں عائشہ ہوں۔”
اسی ایک جملے سے ایک نئی کہانی کا آغاز ہوا۔
اب ہم روز تھوڑی دیر بات کرنے لگے۔ کبھی پڑھائی، کبھی خوابوں کی باتیں، کبھی زندگی کے مقصد پر گفتگو۔ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ ہماری پسند اتنی ملتی جلتی کیسے ہو سکتی ہے۔
عائشہ کو بارش بہت پسند تھی، اور مجھے شام کا سکون۔ اسے کتابیں پڑھنے کا شوق تھا، اور مجھے کہانیاں لکھنے کا۔ آہستہ آہستہ وہ میری ہر دعا کا حصہ بنتی جا رہی تھی۔
ایک دن ہم دونوں پارک میں بیٹھے غروبِ آفتاب دیکھ رہے تھے۔ خاموشی طویل ہو گئی تو میں نے آہستہ سے کہا، “عائشہ، تم سے ملنے کے بعد زندگی پہلے جیسی نہیں رہی۔”
وہ مسکرائی، مگر کچھ نہ بولی۔
چند لمحوں بعد اس نے کہا، “مجھے بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔”
اس ایک جملے نے میری دنیا بدل دی۔
دن گزرتے گئے اور ہمارا رشتہ مزید مضبوط ہوتا گیا۔ ہم نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا کہ ہر خوشی اور ہر مشکل میں ساتھ رہیں گے۔ مگر زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔
عائشہ کے والد کی نوکری دوسرے شہر منتقل ہو گئی۔ اچانک اس نے بتایا کہ اسے جانا ہوگا۔
میرے لیے یہ خبر کسی صدمے سے کم نہ تھی۔
رخصت ہونے سے پہلے اس نے کہا، “اگر محبت سچی ہو تو فاصلے کبھی دلوں کو جدا نہیں کرتے۔”
میں نے اس کی بات پر یقین کیا۔
ہم رابطے میں رہے۔ کبھی خط، کبھی فون، کبھی لمبی دعائیں۔ دو سال گزر گئے، مگر ہمارا اعتماد کم نہ ہوا۔
پھر ایک دن مجھے اس کا پیغام ملا۔
“امی ابو تم سے ملنا چاہتے ہیں۔”
میرا دل خوشی سے دھڑکنے لگا۔
چند ہفتوں بعد دونوں خاندان ملے۔ سب نے ہماری خوشی کو اپنی خوشی سمجھا، اور جلد ہی ہماری منگنی طے ہو گئی۔
نکاح کے دن جب عائشہ نے شرماتے ہوئے میری طرف دیکھا تو مجھے پہلی ملاقات یاد آ گئی۔ میں دل ہی دل میں مسکرایا اور سوچا، “واقعی، جب میں نے اُسے پہلی بار دیکھا تھا، تو دل کو کچھ ہو گیا تھا۔”
کبھی کبھی زندگی کی سب سے خوبصورت کہانی صرف ایک نظر سے شروع ہوتی ہے، اور اگر محبت میں سچائی، احترام اور صبر ہو تو وہ نظر عمر بھر کا ساتھ بن جاتی ہے۔